تپش پیما

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - حرارت جانچنے کا آلہ، درجہ حرارت معلوم کرنے کا آلہ، تھرما میٹر۔ "اس نے حرارت کو ناپنے کے لیے ایک تپش پیما ایجاد کیا۔"      ( ١٩٦٨ء، فتوحات سائنس، ٣٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'تپش' کے ساتھ فارسی مصدر 'پیمودن' سے مشتق صیغہ امر 'پیما' بطور لاحقہ فاعلی ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم اور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٩١ء میں "علم ہیئت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حرارت جانچنے کا آلہ، درجہ حرارت معلوم کرنے کا آلہ، تھرما میٹر۔ "اس نے حرارت کو ناپنے کے لیے ایک تپش پیما ایجاد کیا۔"      ( ١٩٦٨ء، فتوحات سائنس، ٣٠ )

جنس: مذکر